حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانَ ثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ أَنَّ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَهُمَا أَنَّ أَبَاهُ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ أَتَانَا فِي رَمَضَانَ وَكَانَ عِنْدَنَا حَتَّى أَمْسَى فَصَلَّى بِنَا الْقِيَامَ فِي رَمَضَانَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِ رِيمَانَ فَصَلَّى بِهِمْ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ فَقَدَّمَ رَجُلًا فَأَوْتَرَ بِهِمْ وَقَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا وَتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قیس بن طلق کہتے ہیں: میرے باپ طلق بن علی رمضان میں ہمارے پاس آئے اور یہیں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ شام ہوگئی، پھر انہوں نے ہمیں رمضان میں قیام کروایا اور وتر بھی پڑھا دیئے، اس کے بعد وہ رَیمان مسجد کی طرف چلے گئے اور جا کر ان کو رات کی نماز پڑھائی، جب نمازِ وتر کی باری آئی تو انھوں نے ایک اور آدمی کو آگے کر دیا، پس اس نے وتر پڑھائے اور انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم لوگ ایک رات میں دو دفعہ نمازِ وتر نہ پڑھا کرو، بلکہ صرف ایک دفعہ پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1439، والترمذي: 470، والنسائي: 3/ 229 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16405»