حدیث نمبر: 2225
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ: أُوْتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي، قَالَ: لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْسَبْعٍ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ وَمُجَاهِدٍ، فَقَالَا لِي: سَلْهُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَهُ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ عَنْ عَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حکم کہتے ہیں: میں نے مقسم سے کہا: میں اس ڈر سے کہ نمازِ فجر فوت نہ ہو جائے، (جلدی جلدی) تین وتر پڑھ کر نماز کی طرف نکلتا ہوں، لیکن انھوں نے کہا: وتر تو کم از کم پانچ یا سات ہوتے ہیں۔ میں نے ان کی یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد کو بتلائی، انھوں نے کہا: ان سے پوچھو کہ یہ روایت کس سے بیان کرتے ہیں، جب میں نے ان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے کہا: مجھے ایک ثقہ راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2225
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الثقة الراوي عنه مقسم۔ أخرجه النسائي في الكبري : 431، 1406،والبخاري في التاريخ الصغير : 1/293، و الطبراني في الكبير : 23/ 954، وأخرجه النسائي: 3/ 239 موقوفا۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26134»