الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي الْوِتْرِ بِسَبْعٍ وَتِسْعٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثِ عَشْرَ باب: پانچ یا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2225
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ: أُوْتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي، قَالَ: لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْسَبْعٍ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ وَمُجَاهِدٍ، فَقَالَا لِي: سَلْهُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَهُ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ عَنْ عَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حکم کہتے ہیں: میں نے مقسم سے کہا: میں اس ڈر سے کہ نمازِ فجر فوت نہ ہو جائے، (جلدی جلدی) تین وتر پڑھ کر نماز کی طرف نکلتا ہوں، لیکن انھوں نے کہا: وتر تو کم از کم پانچ یا سات ہوتے ہیں۔ میں نے ان کی یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد کو بتلائی، انھوں نے کہا: ان سے پوچھو کہ یہ روایت کس سے بیان کرتے ہیں، جب میں نے ان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے کہا: مجھے ایک ثقہ راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔