حدیث نمبر: 222
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: ((بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) قَالُوا: فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((كُلُّ امْرِيءٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «طب ك۔ أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28035»