حدیث نمبر: 2218
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَأَنَا فِي الْبَيْتِ فَيُفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ بِتَسْلِيمٍ يُسْمِعُنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں نماز پڑھتے اور میں گھر میں ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں فاصلہ کرنے کے لیے سلام پھیرتے تو آپ ہمیں وہ سلام سناتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ بھی تین رکعت نماز وتر کا ایک طریقہ ہے کہ دو رکعات کے بعد سلام پھیر کر تیسری رکعت علیحدہ پڑھی جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو اور ایک رکعت کے مابین سلام پھیرتے تھے اور اپنی کسی ضرورت کا حکم بھی دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری: ۹۹۱) سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان سلام پھیرا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، عمر بن عبد العزيز لم يدرك عائشة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25046»