حدیث نمبر: 2216
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نو وتر ثابت ہیں۔ جب کوئی نمازی ایک سلام کے ساتھ سات یا نو وتر ادا کرے گا تو وہ چھ اور آٹھ رکعات کے بعد درمیانہ تشہد بیٹھے گا، پھر ساتویںیا نویں رکعت ادا کرے گا۔ ہم نے ان ابواب کے شروع میں ان تمام امور کا دلائل کے ساتھ خلاصہ پیش کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح من حديث عائشة، وھذا اسناد ضعيف، ميمون بن موسي مدلس وقد عنعن، ثم انه اختلف علي الحسن۔ أخرجه الترمذي: 471، وابن ماجه: 1195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27088»