حدیث نمبر: 2214
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالی ٰکی تعریف ، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 746 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25861»