حدیث نمبر: 2211
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَا يُفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات اور پانچ وتر پڑھتے تھے اوران میں سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پانچ رکعت وتر ادا کرنا مسنون عمل ہے، جبکہ ان رکعات کو ایک سلام کے ساتھ اور درمیانے تشہد کے بغیر ادا کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2211
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، مِقسم لم يسمع من ام سلمة- أخرجه النسائي: 3/ 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27019»