الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ باب: تین رکعت نمازِ وترکا بیان
حدیث نمبر: 2208
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین وتر ادا کیے اور ان میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا ظاہری سا مفہوم تو یہی بنتا ہے کہ تین وتر اکٹھے ادا کیے گئے، بہرحال بعض صحابہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک درمیانے تشہد کے بغیر ایک سلام کے ساتھ تین رکعت نمازِ وتر ادا کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین وترنہ پڑھو، پانچ یا سات وتر پڑھو (اور تین پڑھ کر) مغرب کی مشابہت نہ کرو۔ (دارقطنی: ۲/۲۴، بیہقی: ۳/۳۱، شرح معانی الآثار: ۱/۲۹۲) کون سا انداز اختیار کیا جائے کہ تین رکعت وتروں کی نمازِ مغرب کے ساتھ کوئی مشابہت نہ رہے؟ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا ہے کہ جب تین وتروں کو درمیانے تشہد کے بغیر لگاتار ادا کیا جائے تو مغرب سے مشابہت ختم ہو جائے گی اور اگر آنے والے تیسرے باب میں بیان کردہ صورت اختیار کر لی جائے کہ تین وتر نماز کو دوسلاموں کے ساتھ ادا کیا جائے، تو مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہتا۔