الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ وَبِثَلَاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ بِسَلَامٍ وَاحِدٍ وَمَا يَتَقَدَّمُهَا مِنَ الشَّفْعِ باب: ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے¤اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان¤ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَسیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں آج رات ضرور بالضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا، پس میں نے آپ کی دہلیز پر یا خیمے کو تکیہ بنا اور دیکھنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر طویل دو رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن یہ پہلے والیوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن اپنے والی پہلے دو سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں،یہ بھی اپنے سے پہلے والی دو سے کم تھیں، پھر وتر ادا کیے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ ایک رکعت نماز وتر ادا کرنا بھی درست ہے، اس موضوع پر درج ذیل حدیث سب سے واضح ہیـ: ابو مجلز کہتے ہیں: صَلّٰی أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ رضی اللہ عنہ بِأَصَحِابِہِ وَھُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَۃَ آیَۃٍ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَآئِ فِیْ رَکْعَۃٍ فَأَنْکَرُوْا ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا اَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِیْ حَیْثُ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدَ مَہُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ (نسائی: ۳/ ۲۴۳،مسند احمد: ۱۹۹۹۸) آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔