حدیث نمبر: 2202
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالنَّهَارِ) مَثْنَى مَثْنَى تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوْتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)اس میں یہ تفصیل ہے: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے،تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا رہے، لیکن جب تو صبح کے طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ تیرے لئے پہلے والی ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا دے گی۔

وضاحت:
فوائد: … سنتوں اور نوافل کی بحثوں میں اِن دو ابواب ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان اور عصر کی سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر سے پہلے والی چار سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے، تو پھر اِس حدیث دن کی نماز دو دو رکعت ہے کا کیا معنی ہو گا، جمع وتطبیق کی صورتیں اسی مقام میں گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، ولفظة: ((والنھار))، زاده علي الازدي، وھو حسن الحديث، وله شاھد عند البيھقي في السنن الكبري موقوف علي ابن عمر رضي الله عنه ۔ أخرجه عبد الرزاق: 4674، وابونعيم في الحلية : 8/ 196، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5103»