الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ وَبِثَلَاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ بِسَلَامٍ وَاحِدٍ وَمَا يَتَقَدَّمُهَا مِنَ الشَّفْعِ باب: ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے¤اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان¤ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2202
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالنَّهَارِ) مَثْنَى مَثْنَى تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوْتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں یہ تفصیل ہے: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے،تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا رہے، لیکن جب تو صبح کے طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ تیرے لئے پہلے والی ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا دے گی۔
وضاحت:
فوائد: … سنتوں اور نوافل کی بحثوں میں اِن دو ابواب ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان اور عصر کی سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر سے پہلے والی چار سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے، تو پھر اِس حدیث دن کی نماز دو دو رکعت ہے کا کیا معنی ہو گا، جمع وتطبیق کی صورتیں اسی مقام میں گزر چکی ہیں۔