حدیث نمبر: 220
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَوْ قِيلَ لَهُ: أَيُعْرَفُ أَهْلُ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: ((يَعْمَلُ كُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا جہنمیوں کو جنتیوں سے پہچان لیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کوئی وہی عمل کر رہا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7551، ومسلم: 2649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20073»