حدیث نمبر: 22
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔“

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس عظیم ذات کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اُس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اسی کی محتاج ہے، اس لیے اہل ایمان کے سینوں میں یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا، اگر اس سے متعلقہ کوئی وسوسہ پیدا ہو جائے تو مسنون دعاؤں کے ذریعے ایسی سوچ کو دور کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 22
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3276، ومسلم: 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8358»