حدیث نمبر: 2199
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَيُّ سَاعَةٍ تُوْتِرِينَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتَّى يُؤَذَّنُ وَمَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ (كَذَا قَالَ) حَتَّى يُصْبِحَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی اذان دینے والے سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اور دوسری اذان دینے والے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہوتے تھے، جبکہ درج ذیل حدیث کی ترتیب اس کے الٹ نظر آتی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کو اذان دیتا ہے، اس لیے (سحری کا کھانا پینا) کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں۔ (بخاری: ۶۲۲، ۶۳، مسلم: ۱۰۹۲) جمع و تطبیقیہ صورت ہے کہ ان دو مؤذنوں کی باریاں بدلتی رہتی تھی، کبھی بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور کبھی سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے پتہ چلتا ہے کہ بلاضرورت طلوع فجر کے بعد نماز وتر ادا کرنا درست ہے، ممکن ہے کہ ان کی مراد پہلا مؤذن اور فجر کاذب کا طلوع ہونا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے لیٹ ہو جاتی ہوں اور اسی عمل کو یہاں بیان کر دیا ہو۔ (واللہ اعلم) مرفوع احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت پچھلے باب میں ہو چکی ہے، نیز اس سے پہلے کئی ایسی احادیث گزر چکی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ نماز وتر کی ادائیگی طلوع فجر سے پہلے ہونی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 407، وابن خزيمة: 408، والبيھقي: 1/ 429 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26037»