الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ باب: وتر کے وقت کا بیان
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَيُّ سَاعَةٍ تُوْتِرِينَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتَّى يُؤَذَّنُ وَمَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ (كَذَا قَالَ) حَتَّى يُصْبِحَ))اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔