الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ باب: وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ آخِرَهُ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ رات کے آخرحصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے، لیکن جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ رات کے آخر میں بیدار ہوجائے گا، تو وہ اس کے آخر میں ہی وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ سب سے بہتر ہے۔