الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ باب: وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2194
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى، ثُمَّ يُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ کَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَیْہِ (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے (اتنی جلدی سے) دو رکعتیں ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے)۔ ان ہی الفاظ کی روشنی میں حدیث ِ مبارکہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ متن میں زیرِ مطالعہ حدیث میں لفظ اذان یا اقامت شک کے ساتھ ہے، اور فوائد کے تحت درج صحیح مسلم کی حدیث میں شک کے بغیر اذان کا لفظ ہے لیکن شارح صحیح مسلم نے بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد اقامت ہے مگر ایک دوسری حدیث میں بھی اقامت کو اذان کہا گیا ہے ((بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلٰوۃٌ)) (بخاری: ۶۳۲) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کی سنتیں آپ جلدی ادا کر لیتے گویا آپ اقامت کی آواز سن رہے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)