حدیث نمبر: 2192
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوِتْرَ فِي هَٰذِهِ السَّاعَةِ، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔

وضاحت:
فوائد: … رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي اسرائيل اسماعيل بن خليفة الملائي۔ أخرجه مختصرا البزار: 790 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 974»