حدیث نمبر: 2180
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ فَضَرَبَهَا وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا، حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال جس آدمی کو نہ جاگنے کا خطرہ ہو اس کے لیےیہی بہتر ہے کہ وہ سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لیا کرے، لیکن اس نماز کو رات کے آخری ایک تہائی میں ادا کرنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2180
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن المسلمي۔ أخرجه ابوداود: 2147، وابن ماجه: 1986 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 122»