الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ باب: وتر کے وقت کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً، صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُ الْوِتْرُ))؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے ۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔