الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوِتْرِ وَتَأْكِيدِهِ وَحُكْمِهِ باب: وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2176
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، وَوَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قاضی افریقہ عبد الرحمن بن رافع تنوخی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام میں آئے، جبکہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے؟ انھوں نے کہا: کیایہ نماز ان پر ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایک اور نماز دی ہے اوروہ وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔