الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ باب: تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ، أَفِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ((فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ))سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہو، وہ بدبختی کے لیے عمل کرتا ہے۔“