حدیث نمبر: 2162
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ، كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یعلی بن مملک کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراءت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراءت سے کیا تعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جتنا سوتے تھے، اتنی نماز پڑھتے اور جتنی نماز پڑھتے تھے، اتنا سوتے تھے، پھر وہ آپ کی قراءت کی کیفیت بیان کر رہی تھیں کہ وہ ایک ایک حرف کے لحاظ سے بالکل واضح ہوتی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت تمہارے بس سے بڑھ کر ہے، تم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ان ابواب کی اور دیگر کئی احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کی کیفیت و کمیت اور معیار و مقدار کا اندازہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے کا مسئلہ واضح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2162
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن مملك۔ أخرجه بتمامه ومختصرا ابوداود: 1466، والترمذي: 2923، والنسائي: 2/ 181، 3/ 214 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27099»