الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 2161
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ، وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے اورجب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے توچار رکعت ادا کرتے، ان میں نہ کلام کرتے اورنہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقفے وقفے سے دو دو کر کے چار چار رکعتیں ادا کرتے تھے، لیکن پہلی دو رکعتوں سے سلام پھیرنے کے بعد کلام کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، اتفاقاً ایسی بات ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔