الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا يَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةًسیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔