حدیث نمبر: 2160
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا يَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔

وضاحت:
فوائد: … آج کل کے نمازیوں اور تہجد گزاروں مین یہ سنت مفقود ہے کہ ان کے رکوع و سجود تین تسبیحات سے زیادہ نہیں ہوتے اور وہ بھی روایتی سی معلوم ہوتی ہیں، در حقیقت رکوع وسجود اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی عاجزی کا مقام ہیں، اس لیے ان کو لمبا کرنا چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رات کی ہر بیداری کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2160
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن جعفر بن نجيح ضعيف، وابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث لم يسمع من صفوان۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7343 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23040»