الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ باب: تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) عَنْ عَلِيٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ فَقَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً)) فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ)) ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} إِلَى قَوْلِهِ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زمین کو کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا جنت اور جہنم کی صورت میں ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے اور یہ بھی لکھا جا چکا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔“ لوگوں نے کہا: ”کیا ہم اپنی کتاب پر اعتماد کر کے عمل ترک نہ کر دیں، کیونکہ جو خوش بختوں میں سے ہو گا، وہ خوش بختی تک رسائی حاصل کر لے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا، وہ بدبختی تک پہنچ جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، جو بدبختوں میں سے ہے، اس کے لیے بدبختی کے عمل آسان کر دیے گئے ہیں اور جو خوش بختوں میں سے ہے، اس کے لیے خوش بختی کے عمل آسان کر دیے گئے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ» جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)، اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی، اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اس کے لیے تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا ۱۰)