الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَئَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ))، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ صَلَاتُهُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا الْإِقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُوترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے، ہر دو رکعتوں میں توتشہد پڑھے، تنگی اور مسکینی کا اظہار کرے اور تو اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہے:اے اللہ! اے اللہ! (پھر اپنی دعا کرے) اور جو اس طرح نہیں کرے گا اس کی نماز ناقص ہو گی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یعنی اس کی نماز ناقص ہو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے ان سے کہا: اِقْنَاع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ گویا وہ دعا کر رہے ہیں۔