حدیث نمبر: 2154
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ نَاسًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا؟ فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَأُوا وَلَمْ يَقْرَأُوا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّامَّةَ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ وَسُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مسلم بن مخراق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں سے بعض تو ایک رات میں دو تین مرتبہ قرآن پڑھ لیتے ہیں، انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے پڑھ کر بھی نہیں پڑھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات قیام کرتے تو پھر آپ سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی تلاوت کر سکتے ہوتے، اور اس میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور رغبت کا اظہار کرتے، اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے کہ جس میں تخویف ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کی پناہ طلب کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … جنہوں نے پڑھ کے بھی نہیں پڑھا سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے بظاہر تو قرآن مجید پڑھا ہے، لیکن اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لحاظ سے گویا کہ نہیں پڑھا، دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم تین دنوں میں قرآن مجید پڑھا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں میں قرآن مجید کی ایک دفعہ تلاوت ہو جانی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال مسلم بن مخراق۔ أخرجه ابن المبارك في مسنده : 58، والبيھقي: 2/ 310 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24609، 24875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25387»