الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى باب: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث¤جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
حدیث نمبر: 2152
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی ایک رات کو کسی دوسری رات پر فضیلت دیتے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری سند والی روایت ضعیف ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کییہ حدیث اس کا شاہد بن جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے۔ (بخاری: ۱۱۴۷، ۲۰۱۳، مسلم: ۷۳۸) یعنی زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام گیارہ رکعت رہا۔ رہا مسئلہ قیام کی کیفیت کا، تو اس میں تبدیلی آ تی رہتی تھی، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل قیام کرتے اور کبھی کبھار زیادہ لمبا نہیں کرتے تھے، البتہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اس معاملے میں سب سے زیادہ محنت کرتے تھے۔