الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى باب: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث¤جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا بَلْ يُوقِظُنَا، ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ۔ (دوسری سند)سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر پہلے کی طرح حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے اور اس میں اپنی آواز کو بلند رکھتے، ایسے لگتا تھا کہ آپ ہمیں بیدار کر رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بیدار کردیتے تھے، پھر آپ دعا کرتے اور ہم سن رہے ہوتے اور پھر بلند آواز سے ایک سلام پھیرتے۔