حدیث نمبر: 2150
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا بَلْ يُوقِظُنَا، ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر پہلے کی طرح حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے اور اس میں اپنی آواز کو بلند رکھتے، ایسے لگتا تھا کہ آپ ہمیں بیدار کر رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بیدار کردیتے تھے، پھر آپ دعا کرتے اور ہم سن رہے ہوتے اور پھر بلند آواز سے ایک سلام پھیرتے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2150
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 56، 1349، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26515»