الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ باب: تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ)) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ)) {أَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے،“ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ» جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے رب سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا ۱۰)