حدیث نمبر: 2149
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ، اسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا فَيَتَشَهَّدُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ، فَيُصَلِّي رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً ((السَّلَامُ عَلَيْكُمْ)) يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ، فَهَٰذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُوْلَى وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا، فَكَانَتْ هَٰذِهِ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زرارۃ بن اوفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور سوجاتے، رات کو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے اور آپ کے پاس وضو کا ڈھکا ہوا پانی اور مسواک پڑی ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر کے وضو کرتے اورآٹھ رکعت ادا کرتے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ اتنی قراءت کرتے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تمام رکعتیں اکٹھی ادا کرتے اور آٹھویں کے بعد بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر نویں رکعت کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ایک رکعت پڑھ کر تشہد میں بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے اور دعائیں کرتے، پھر السلام علیکم کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے حتیٰ کہ ہمیں جگا دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے بیٹھے تکبیر تحریمہ کہہ کر قراءت شروع کر دیتے اور بیٹھ کر ہی دو رکعت ادا کرتے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گیارہ رکعت نماز ہوتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گوشت زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھاری ہوگئے تو آپ نے نو کے بجائے سات رکعت قیام کیا، ان کو بھی لگاتار ادا کرتے اور پہلے طریقے کی طرح (چھ رکعت کے بعد) تشہد میں بیٹھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی نماز جاری رہی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے نمازِ وتر کی سات اور نو رکعتیں ثابت ہوئیں، نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ ان میں ایک سلام پھیرنا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2149
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1346، 1347، والنسائي: 3/ 60، 199 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269، 25987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26514»