حدیث نمبر: 2146
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوْتِرُ بِالْتَاسِعَةِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَذَكَرَتِ الْوُضُوءَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَأْمُرُ بِطَهُورِهِ وَسِوَاكِهِ فَلَمَّا بَدَّنَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُبِضَ، قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ؟ قَالَتْ: فَلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} فَلَا تَبَتَّلْ، قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقُهَ فَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَالكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعد بن ہشام سے روایت ہے، وہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو آٹھ رکعت نماز پڑھتے، نواں یعنی ایک رکعت وتر ادا کرتے اور اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھرسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضو کا ذکر کیا،رات کو نماز کے لیے اٹھنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے پانی اور مسواک کا اہتمام کر دینے کا حکم دیتے تھے، ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو چھ رکعتیں ادا کرتے، ساتواں وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی روٹین پر برقرار رہے کہ وفات پا گئے۔ سعد بن ہشام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے (عبادت میں مشغول ہونے کے لیے) شادی نہ کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ایسے نہیں کرنا، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزَوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً} (اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے ہیں اور ہم نے ان کے لئے بیویاں اور اولادیں بنائیں)، لہٰذا تبتّل نہیں کرنا۔ اس طرح سعد بن ہشام فقیہ بن گئے اور پھر بصرہ روانہ ہو گئے، لیکن کچھ دن ہی ٹھہرے تھے کہ پھر مکران کے علاقہ کی طرف گئے اور وہاں اپنے سب سے بہتر عمل پر شہید ہو گئے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی لوگوں کو چاہیے کہ وہ رات کو وضو کے پانی اور مسواک وغیرہ کااہتمام کر کے سوئیں، مسواک کی اہمیت کا اندازہ لگانا چاہیے، وضو تو نماز کی شرط ہے، چونکہ اس آیت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ انبیاء و رسل نے شادیاں کیں، بلکہ کئی ہستیوں کی ایک سے زائد بیویاں تھیں، پھر ان کی اولادیں ہوئیں، جبکہ وہ سب سے بڑھ کر عبادت کرنے والے بھی تھے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی ہے، اس طرح سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استدلال کر کے سعد بن ہشام کو مسئلہ سمجھا اور کیا خوب استدلال کیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ نے کس گہرے فہم سے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي مختصرا: 3/ 242 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25165»