حدیث نمبر: 2145
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُوْلَى مِنْ أَذَانِهِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشاء سے نمازِ فجر تک کل گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے تھے، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک سجدہ پچاس پچاس آیتوں کے برابر ہوتا، جب مؤذن پہلی اذان سے فارغ ہوتا تو آپ اٹھ کر ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آ جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تشریف لے جاتے۔

وضاحت:
فوائد: … اس سے اذان مراد ہے۔ حدیث میں اقامت کو بھی اذان کہا گیا ہے اور وہ بعد میں ہوتی ہے گویا وہ دوسری اذان ہے تو اس جگہ اقامت نہیں اذان مراد ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعت ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1336، 1337، والنسائي: 2/30، وابن ماجه: 1177، 1358 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24965»