حدیث نمبر: 2142
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَٰذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ … حَتَّى بَلَغَ … سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَٰذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھا اورسورۂ آل عمران کی یہ آیات تلاوت کیں: {إِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ … … … سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّاِر} پھر گھر کی طرف واپس آئے، مسواک کیا، وضوء کیا اور پھر قیام شروع کر دیا، پھر لیٹ گئے، پھر جب دوبارہ جاگے تو باہر گئے، آسمان کی طرف دیکھ کر یہی آیات تلاوت کیں، پھر واپس آئے، وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … رات کو بیدار ہونے کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنا، اذکار کی بحثوں میں اس کا تذکرہ آئے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب یہ آیات تلاوت کی جائیں تو ایک دفعہ آسمان کی طرف دیکھا جائے تاکہ ان آیات میں جن مخلوقات کا ذکر ہے، حسب ِ امکان وہ بھی سامنے ہوں اور مخلوقات کے الق کی طرف توجہ کرنے کا بھی ایک انداز آسمان کی طرف نظر اٹھانا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 256 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2488، 3276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3276»