حدیث نمبر: 2139
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: ((نَامَ الْغُلَامُ؟)) أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ میری خالہ ہیں، کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر آکر چار رکعتیں ادا کیں اور پھر سوگئے، پھر اٹھے اور چار رکعت نماز پڑھی اور پوچھا: کیا چھوٹا بچو سویا ہوا ہے؟ یا اس قسم کی بات کی،پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سوگئے اور اس قدر سوئے کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ نمازِ فجر کے لیے تشریف لے گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 117، 1342 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3170»