حدیث نمبر: 2138
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے کانوں کو مروڑنا، اس کی وجہ یہ تھی ان پر نیند غالب آ رہی تھی، اس سے بچوں کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 183، 992، 1198، ومسلم: 763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2164»