الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِرَاءَتِهِ وَدَعَوَاتِهِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ باب: رات کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ فَقَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَرُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّعبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔