حدیث نمبر: 2135
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ فَقَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَرُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بالکل پست آواز میں نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس ہستی کو تو سنا رہا تھا، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: میں اونگھنے والے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! تم اپنی آواز کو معمولی بلند کرو۔ اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو معمولی پست کرو۔ (ابوداود: ۱۳۲۹، ترمذی: ۴۴۷) معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو دھیمی آواز کے ساتھ تلاوت کیا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2135
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: بقصة الغسل من الجنابة: 307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25675»