حدیث نمبر: 213
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَ الْعَمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ؟ فَقَالَ: ((بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ قَالَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو ہم از سرِ نو کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر عمل کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھو حديث طويل و أخرجه مسلم مفرقا: 1213، 2648 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14308»