الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِرَاءَتِهِ وَدَعَوَاتِهِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ باب: رات کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيَّةِ وَلَا بِالرَّفِيعَةِ قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ هُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت نہ زیادہ آہستہ تھی اور نہ ہی زیادہ بلند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر اور ہمیں سناتے ہوئے پڑھ رہے تھے، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کے برابر تھا، … ، اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، عبد الملک بن عمیر نے کہا: یہ رات کی نفل نماز تھی۔