حدیث نمبر: 2124
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ) فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ: ((قُومَا فَصَلِّيَا))، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنَيَّ، وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ عَلَى فَخِذِهِ: ((مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ قرآن مجید کے ذریعے اپنے آپ کو ضبط میں لایا جا سکتا ہے، پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکوہ کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ دوہراتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت {وَکَانَ الإِْ نْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا} پڑھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ انسان بحث مباحثہ کرتا ہی رہتا ہے۔ اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک منقبت کا بیان ہے کہ انھوں نے ایسی چیز کو بھی نہیں چھپایا جس میں معمولی عیبیا ملامت پائی جاتی تھی اور نشرِ علم کی مصلحت کو کتمان پر مقدم کیا۔ اس حدیث سے درج ذیل امور کا بھی علم ہوتا ہے: امام کا نوافل کے سلسلے میں سختی نہ کرنااور سمجھانے اور رغبت دلانے پر اکتفا کرنا، انسان کا طبعی طور پر قول و فعل کے ذریعے اپنا دفاع کرنا، آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کرے، اگرچہ معاملے کا تعلق غیر واجب کام سے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2124
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7347، 7465، ومسلم: 775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 571، 575، 705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 705»