الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا باب: رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2123
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذْنِهِ))، قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اصحاب السنن کا میلان اس طرف ہے کہ اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، یہی معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے تہجد کا اہتمام کرنے والا اللہ کا بندہ ہی محسوس کر سکتا ہے کہ رات کا قیام نہ کرنے کی صورت میں انسان کس قسم کی نحوست، بدمزاجی، بے سکونی، بے اطمینانی اور غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زمانے بیت جانے کے باوجود جس شخص نے رات کے قیام کا اہتمام نہیں کیا، اس کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی احادیث کے مفہوم کا ادراک کر سکے، یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اس میدان کا شہسوار ہی نہیں ہے۔ ایک قول کے مطابق اس حدیث سے مراد نمازِ عشاء لی گئی ہے۔ کیا شیطان کے پیشاب کرنے کو حقیقت پر محمول کیا جائے یا اس کایہ مجازی معنی مراد لیا جائے کہ شیطان اس کے کان کو اذان یا مرغ کی آواز سننے سے یا ایسی آواز سننے سے روک دیتا ہے، کہ عام طور پر جس کی وجہ سے اہل توفیق نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیںیا لغویات اور باطل کلام کی وجہ سے اس کے کانوں کو بھاری کر دیتا ہے۔ راجح بات حقیقی معنی ہی بیان کرنا ہے کہ شیطان واقعی اس کے کان میں پیشاب کر جاتا ہے، لیکن اس کی حقیقت و کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شیطان کا کھانا، پینا، قے کرنا، گوز مارنا، انسان کے اندر داخل ہو جانا وغیرہ جیسے حقائق ہیں۔واللہ اعلم بالصواب