الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا باب: رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2122
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ)، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔