الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا باب: رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2121
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَصْنَعُ هَٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔