حدیث نمبر: 2120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَقُولُ بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے قیام کا اس قدر اہتمام کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو تو بالاولییہ اہتمام کرنا چاہیے، اگرچہ ہم عبادت کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»