حدیث نمبر: 212
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ، أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔“ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 4696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 184»