حدیث نمبر: 2119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ)) ثُمَّ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی داؤد علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ۔ راویٔ حدیث عمرو بن اوس کے کلام سے مدرج ہیں، صحیح مسلم کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے اس سے مراد ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطارکرنا ہے۔ دوسری روایت کی روشنی میں حضرت داود علیہ السلام کے قیام کییہ روٹین بنتی ہے: نصف رات سونا، پھر ایک تہائی رات قیام کرنا، پھر رات کا چھٹا حصہ سو جانا۔ مثال کے طور پر اگر رات کی مقدار چھ گھنٹے ہو تو تین گھنٹے سونے کے بعد دو گھنٹے قیام کرنا اور پھر ایک گھنٹہ سو جانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2119
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1131، 3420، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6921»