الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا باب: رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2116
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، يَشُكُّ عَوْفٌ فَقَالَ: ((جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرُ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔