حدیث نمبر: 2103
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے غور سے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک ماہ تک غور سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے والی دو سنتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۵۶۹۱)
فوائد: … ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں
تلاوت کی، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 417، وابن ماجه: 1149، والنسائي: 2/ 170 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4763، 5691، 5742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5742»