الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
حدیث نمبر: 210
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ أَبُو حَازِمٍ: لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ، يَعْنِي الْتَكْذِيبَ بِالْقَدَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس دین پر لعنت کرے کہ میں جس سے بڑا ہوں، ان کی مراد تقدیر کو جھٹلانے پر (رد کرنا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ابو حازم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس دین کی کیا اہمیت ہے کہ جس میں تقدیر پر ایمان لانے کی شق نہیں پائی جاتی، ایسا دین تو اتنا ناقص ہو گا کہ وہ ابو حازم سے بھی کم تر ہو گا۔