حدیث نمبر: 21
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔“

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ زمانہ میں ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امورِ کائنات کا متصرف اور مُدَبِّر وہ ہے، زمانے کے سارے نظم و نسق میں اسی کی مشیت اور کاریگری کارفرما ہے، اس لیے انسان جب آزمائشوں کے دور سے گزر رہا ہو، مثلا: قحط، سیلاب، زلزلہ، آندھی، شکست، بیماری، فقیری، تو وہ زمانے اور وقت کو برا بھلا کہنے کی بجائے صبر کرے اور ایسی صورتوں میں اس کے وجود پر اللہ تعالیٰ کے کیا تقاضے ہیں، ان کو پورا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 21
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4826، 7491، ومسلم: 2246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7244»