حدیث نمبر: 2096
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ قَالَ كَانَ أَبِي وَجَدِّي وَعَمِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، قَالَ سَلَمَةُ: أَوْصَانِي أَبِي بِصَلَاةِ السَّحَرِ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ! إِنِّي لَا أُطِيقُهَا، قَالَ: فَانْظُرِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا تَدَعَنَّهُمَا، وَلَا تَشْخَصْ فِي الْفِتْنَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سلمہ بن نبیط کہتے ہیں: میرے باپ، دادا اور چچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن پچھلے پہر سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ پھر میرے باپ نے مجھے تہجد کی نماز پڑھنے کا حکم دیا، لیکن میں نے کہا: اباجان! مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے، یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھر فجر سے پہلے دو رکعتوں کا خیال رکھنا اوران کو ہرگز ترک نہ کرنااور فتنہ میں اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 37، وأخرجه احمد في الزھد : ص 233 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18930»